خزیمہ یاسین
سال 2001 سے 2021 تک افغانستان کی 20 سالہ المیے بھری کہانی میں اقوامِ متحدہ کا کردار اکثر زیر بحث آتا رہا ہے۔ اگر یہ عالمی ادارہ واقعی امن، خودمختاری اور انسانی حقوق کا ضامن ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے:
اتنی طویل موجودگی کے باوجود افغانستان کیوں امریکی جارحیت کا شکار ہوا؟
اقوامِ متحدہ کا مینڈیٹ اور اس کی حدود:
اقوامِ متحدہ کے چارٹر UN Charter, Articles 1 & 2 کے مطابق اس کا بنیادی مقصد تنازعات کی روک تھام، ریاستی خودمختاری کا احترام اور انسانی حقوق کا تحفظ ہے۔ افغانستان میں ‘یونائیٹڈ نیشنز اَسِسٹنس مشن اِن افغانستان’ (UNAMA) سال 2002 میں قائم ہوا، تاکہ سیاسی عمل کی نگرانی، انسانی حقوق کے تحفظ اور انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم، تمام بڑے سیاسی اور فوجی فیصلے امریکا اور NATO کے ہاتھوں میں تھے۔
افغانستان میں سال 2004، 2009، 2014 اور 2019 کے انتخابات اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہوئے۔ مگر UNAMA اور SIGAR ہی کی رپورٹس کے مطابق ہر بار دھاندلی، متنازع نتائج اور عوامی اعتماد میں کمی دیکھی گئی۔
اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اقوامِ متحدہ نے افغان عوام کی رائے کو ترجیح دی یا ‘سیاسی استحکام’ کے نام پر ایک ناکام نظام کو سہارا دیا گیا؟
اس سے یہ سوال بھی واضح ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں رائج انتخابات کا نظام جمہوریت کی ضرورت کے بجائے بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات کی راہ سازی ہے؟
انسانی حقوق کے تحفظ اور دوحا معاہدے میں UN کی غیرموجودگی:
افغان جنگ میں انسانی حقوق کی پامالی بالکل واضح مسئلہ ہے۔ امریکی ڈرون حملے، نائٹ ریڈز اور بگرام کے حراستی مراکز ان کی مثال ہیں۔ یوناما ہیومن رائٹس نے طاقت کے اس غیر انسانی استعمال پر رپورٹس جاری کیں، لیکن امریکا اور جمہوری افغان حکومت میں سے کسی فریق پر مؤثر دباؤ نہیں ڈالا جا سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسانی حقوق واقعی عالمگیر اہمیت کے حامل ہیں یا یہ صرف طاقت ور ممالک کے مفادات کی اَٹھکھیلیاں ہیں؟
اسی طرح سال 2020 میں ہونے والا US-Taliban Doha Agreement طے پایا۔ اس میں اقوامِ متحدہ نہ بطور ضامن شامل تھا اور نہ بطور فعال ثالث موجود تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتوں کی مرضی کے بغیر امن معاہدے بھی عمل میں نہیں آ سکتے۔ جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ عالمی ادارہ حقیقت میں سیاست کے میدان میں کہاں کھڑا ہے؟
اقتصادی پابندیاں اور انسانی بحران:
افغان اثاثوں کا منجمد ہونا اور عالمی مالیاتی نظام سے کٹاؤ نسبتاً انسانی بحران کا سبب بنے۔ اقوامِ متحدہ نے بارہا تشویش کا اظہار کیا، لیکن خود سے پابندیوں کے خاتمے یا انسانی امداد کے لیے کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کیا۔ یہ سوال بھی قاری کے ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا عالمی ادارے کی ذمہ داری محض صحافیانہ طرز کی رپورٹنگ تک محدود ہے یا بحران کو روکنے کی حقیقی ذمہ داری بھی اس کے منشور میں درج ہے؟
افغانستان میں اقوامِ متحدہ کی ناکامی کئی پہلوؤں سے واضح ہوتی ہے۔ سب سے پہلے ادارے کی حدود کو دیکھنا ضروری ہے۔ UNAMA کے پاس نہ عسکری طاقت تھی اور نہ ہی وہ کوئی فیصلہ ساز کردار ادا کر سکتی تھی۔ یعنی عملی طور پر اس کے پاس افغانستان کی صورتِ حال بدلنے کی قوت موجود نہیں تھی۔
دوسرا عنصر عالمی طاقتوں کا اثر ہے۔ جن ممالک کے پاس ویٹو پاور ہے، وہ اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے مطابق فیصلے کرتے رہے اور اقوامِ متحدہ کی کارروائیاں اکثر انہی طاقتوں کی اجازت یا ترجیح کے تابع رہیں۔
تیسرا پہلو غیر حقیقی توقعات ہیں۔ یہ تصور کہ کمزور اقوام کو بیرونی اداروں کی مدد سے باہر سے ‘تعمیر’ کیا جا سکتا ہے، عملی تجربے میں ناکام ثابت ہوا۔
چوتھا اور آخری عنصر عملی ناپسندی یا عدم دل چسپی ہے۔ خطرات کے باوجود مؤثر مداخلت نہ ہونا اور محض دستاویزی اقدامات پر اکتفا کرنا ادارے کی محدودیت کو اَور واضح کرتا ہے۔
یہ سب عوامل مل کر یہ دکھاتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی ناکامی صرف ادارے کی خامیوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے اثر، غیر حقیقی توقعات اور عملی اقدامات کی کمی کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔
طاقت ور ہونا ہی معروضی حقیقت ہے:
افغانستان کی کہانی ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ اقوامِ متحدہ صرف ناکام ہوئی، بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ طاقت کے بغیر انصاف اور اختیار کے بغیر غیر جانب داری محض دل نشین نعرے رہ جاتے ہیں۔
اگر اقوامِ متحدہ واقعی عالمی امن اور انسانی حقوق کی ضامن ہے تو اس کے لیے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ادارہ ‘حقیقت میں مؤثر ہے یا صرف رپورٹس تیار کرنے میڈیا کے ذریعے رپورٹس تیار کرنے والا ادارہ ہے؟’
اسی لیے کچھ لمحے کے لیے فطرۃً یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ‘اگر اقوامِ متحدہ فیصلہ ساز ہی نہیں تھی تو اسے ناکامی کا ذمہ دار کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے؟’
چناں چہ افغانستان کی کہانی ایک وارننگ ہے کہ اگر عالمی ادارے اپنی حدود اور طاقت کے فرق کو نہ پہچانیں تو عالمگیر قرار دیے جانے والے انسانی حقوق کو ہی ان کا حق نہیں مل سکتا۔
جس کا واضح معنی یہی سامنے آتا ہے کہ یہاں آپ کا طاقت ور ہونا ہی معروضی حقیقت ہے، اور عالمی ادارے صرف طاقت کی عزت کرتے ہیں۔